ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آسارام کیس کے متعلق آنے والے فیصلہ کا لیڈران نے خیر مقدم کیا، اب وقت آگیا ہے کہ سچے اور ڈھونگی باباؤں کے درمیان تمیزکی جائے: اشو ک گہلوت 

آسارام کیس کے متعلق آنے والے فیصلہ کا لیڈران نے خیر مقدم کیا، اب وقت آگیا ہے کہ سچے اور ڈھونگی باباؤں کے درمیان تمیزکی جائے: اشو ک گہلوت 

Thu, 26 Apr 2018 11:40:02    S.O. News Service

نئی دہلی 25اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سیاسی لیڈران اور سماجی کارکنوں نے نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے معاملہ میں خود ساختہ بابا آسارام کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلہ کا استقبال کیا ہے علاوہ ازیں متاثرہ اور اس کے والد کے صبرو تحمل اور عدلیہ پر اعتماد کی ستائش کی ۔ کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوت نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب لوگوں کو حقیقی سنتوں اور ڈھونگی باباؤں کے درمیان فرق کرنا چاہئے۔ اس طرح کے معاملات سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی شبیہ مسخ ہوتی ہے ۔ سی پی ایم نے جودھپور کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ سی پی ایم پولٹ بیورو کی جانب سے آج جاری بیان کے مطابق یہ معاملہ خود ساختہ بابا آسارام کے اپنے پیروکاروں کے اعتقاد اور یقین کے نام پر بچوں کے جنسی استحصال سے جڑا ہوا ہے اس لیے اس میں قصورواروں کو دی گئی سخت سزا پر عمل کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس معاملہ میں متاثرہ اور اس کے خاندان کی آواز دبانے کیلئے تشدد کا بھی سہارا لیا گیا۔ نو گواہوں پر حملے کئے گئے ان میں سے تین کی موت بھی ہو گئی ہے ۔ قومی حق تحفظ ا طفال کمیشن کی صدرنے کہا کہ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس معاملہ کا مجرم بہت طاقتور شخص ہے، لوگ پریشانی میں ہونے پر ان باباؤں کے پاس جاتے ہیں، باباؤں کو اس طرح کی حرکت کی بجائے ان کی حفاظت کرنا چاہئے۔ انہوں نے ساتھ ہی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 12 سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملات میں قصورواروں کو سخت سزا کی فراہمی والے حالیہ آرڈیننس قبل از وقت مؤثر نہیں ہوگا۔ 


Share: